بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری، میجر جنرل پاسدار محسن رضائی نے ایران کے قومی ٹیلی وژن کے نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے ایران کے خلاف امریکی-صہیونی جنگ میں یورپ کے قابل مذمت کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
فرانس ایک بڑا ملک ہے اور یورپ میں اس کا کردار ہے؛ جرمنی بھی ایسا ہی ہے؛ لیکن مسٹر میکرون اور جرمنی کا چانسلر اسلامی جمہوریہ ایران پر اسرائیلی جارحیت کے آغاز پر بہت خوش تھے۔ یہاں تک کہ جرمن چانسلر نے کہا تھا کہ "وہ گندی حرکت جو یورپ کرنا چاہتا تھا، نیتن یاہو نے یورپ کی طرف سے انجام دی ہے۔ لگتا تھا کہ یہ یورپی حکمران اس اسرائیل جارحیت پر جشن کا اعلان بھی کر ڈالیں گے۔
لیکن آج میکرون اور جرمنی کے چانسلر دونوں کہتے ہیں کہ ایران کے خلاف جو جنگ ہوئی اس نے یورپ کو بہت بڑے مسائل سے دوچار کیا ہے۔ میکرون کہتا ہے کہ فرانس کی سڑکوں پر جو مسائل اب ہو رہے ہیں وہ ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے ہیں۔ جرمنی بھی کہتا ہے کہ اس ملک کے معاشی مسائل ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے ہیں۔
زیلینسکی نے کچھ عرصہ پہلے ٹرمپ سے مخاطب ہو کر کہا: "مسٹر ٹرمپ! ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ آبنائے ہرمز کی وجہ سے ہے، تم دنیا کو غلط پتہ کیوں دے رہے ہو؟"
اب تصور کریں کہ جب ایران کے خلاف جنگ کے اس قدر بین الاقوامی اثرات ہیں اور اس نے پوری دنیا کی زندگی متاثر کی ہے، تو اس کی کوئی وجہ ہونی چاہئے۔ اور وہ وجہ ایرانی قوم کی مزاحمت و استقامت، حصولیابیاں اور عالمی معاشی نقشے میں ایران کا مقام ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ایرانی قوم کے خلاف کوئی واقعہ پیش آئے اور صرف ایرانی قوم کو نقصان ہو؛ نقصان پوری دنیا کو ہوتا ہے۔
اب امریکہ میں کیا ہو رہا ہے؟ ٹرمپ جہاں بھی انتخابی اور تشہیری تقریر کے لئے جاتا ہے، تو اس کو بلا استثنیٰ لوگوں کے ان سوالات کا جواب دینا پڑتا ہے کہ اس نے جنگ کیوں شروع کی؟ وہ کہیں بھی اس سوال کا جواب دیئے بغیر تقریر نہیں کر سکتا۔ ہر صحافی کے سوالات میں سب سے پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ "آپ نے ایران کے خلاف جنگ کیوں شروع کی؟"
لہذا، یہ واضح ہے کہ اس جنگ کے ایسے بہت بڑے اثرات مرتب ہوئے ہیں جنہوں نے دنیا بھر کے لوگوں کے ذہنوں کو مصروف کر دیا ہے۔ یہ عظیم اثرات جو اب پوری دنیا میں لوگوں کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں، ایران کی مزاحمت و استقامت، ایران کی صلاحیت، ایران کے جغرافیائی محل وقوع اور ایران کی تہذیب کے اثرات ہیں۔
اس جنگ نے ایرانی قوم کے بہت سے گمنام پہلوؤں کو آشکار کیا اور ایرانی قوم کی عظمت و طاقت کو نمایاں کیا۔ اگر ہم امریکی عوام کی زندگی کا جائزہ لیں تو امریکہ میں کوئی خاندان اور فرد ایسا نہیں ہے جسے ایران پر امریکہ کے حملے سے نقصان نہ ہؤا ہو۔ یہاں تک کہ جو امیر تھے ان کی آمدنی بھی کم ہو گئی ہے؛ عام لوگوں کی حالت تو ناگفتہ بہ ہے، جن کو ایندھن، پٹرول اور گرم کنندہ وسائل کی لاگت میں شدید اضافے کا سامنا ہے۔
نہ ویتنام کی جنگ ایسی تھی اور نہ ہی دوسری جنگیں۔ ہاں، ویتنام کی جنگ میں بہت سے امریکی فوجی خود ویتنام میں مارے گئے، لیکن ویتنام کی جنگ نے پوری دنیا پر اس طرح کے وسیع اثرات مرتب نہیں کئے۔ ایران پر امریکی حملے نے دنیا بھر کے لوگوں کی زندگی کو متاثر کر دیا ہے۔
میرے خیال میں دنیا میں کوئی گھر ایسا نہیں جہاں مسٹر ٹرمپ پر تھو تھو نہ کی جاتی ہو اور اس کی توہین نہ کی جاتی ہو۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خط
میجر جنرل رضائی نے کہا: جی ڈی وینس نے میرے نام ایک خط لکھا جو ہمارے درمیان کے ایک ثالث نے ہماری وزارت خارجہ کی تحویل میں دیا اور جناب عراقچی نے اسے میرے پاس بھجوایا۔ میں نے خط پڑھا، لیکن ابھی تک اس کا جواب نہیں دیا۔ خط کا لب و لہجہ بالکل بدل گیا ہے؛ اس کا لب و لہجہ اس خط سے کہیں مختلف ہے جو ٹرمپ نے رہبر شہید کے نام لکھا تھا۔
یہ دوسرا خط ہے جو امریکیوں نے بھیجا ہے اور یہ بہت اچھی علامت ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ الحمدللہ ایرانی قوم نے اپنی کامیابی اور طاقت کو مستحکم کر لیا ہے۔ اب ہمیں آگے بڑھنا ہے۔ جس طرح کہ جے ڈی وینس نے خط کے مندرجات میں سے کچھ بھی فاش نہیں کیا، میں بھی فی الحال کچھ نہیں کہوں گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ